31

سینیٹ اجلاس ،5ہزار کے نوٹ کے بند کرنے کی تحریک پیش

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چاہتے ہیںجلد از جلد انتخابات ہوں اور ایوان مکمل ہو،یورپ کا پاکستان کے ساتھ موازنہ نہیں ہو سکتا، خواہش ہے افغانستان سے آنے والے ویزا لیں، کوشش کریں گے پاک افغان سرحدکو قانونی بنائیں۔تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گورنس اور آپریشنز ترمیمی بل 2023 اور معلومات تک رسائی کا حق ایکٹ2017ترمیمی بل پیش کیا گیاجبکہ 5ہزار کے نوٹ بند کرنے سے بارے تحریک بھی پیش کی گئی۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں جلد از جلد انتخابات ہوں اور ایوان مکمل ہو۔انہوں نے کہا کہ یورپ کا پاکستان کے ساتھ موازنہ نہیں ہو سکتا، ہماری خواہش ہے افغانستان سے آنے والے ویزا لیں، ہم کوشش کریں گے کہ پاک افغان سرحدکو قانونی بنائیں۔اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ پرائیویٹ ممبر ڈے پر ایوان نے فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد منظور کی وہ ایجنڈے پر موجود نہیں تھی، مذکورہ قرارداد اس ایوان کی عکاسی نہیں کرتی۔رضا ربانی نے کہا کہ ایک فیصلہ آرمی کورٹ کے حوالے سے آیا، فیصلہ منظور کیا جاتا یا پھر قانونی راستہ اختیار کیا جاتا، پارلیمنٹ کو استعمال کیا گیا جس سے پارلیمنٹ کی بے توقیری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ جو قرارداد ایوان میں منظور ہوئی ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹرمشتاق کی ملٹری کورٹ کے حوالے سے قرارداد فارورڈ کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ قرارداد منظوری کے دن بھی میں نے اور رضا ربانی نے مخالفت کی، ہم دونوں کو بولنے تک کی اجازت نہیں دی گئی، وہ قرارداد اس ایوان پر ڈرون حملہ ہے، قرارداد کے ذریعے عدلیہ کو دبانے کی کوشش کی گئی، اس روز قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں تھی، ایوان کے کسی ممبر کے ساتھ یہ قرارداد شئیر نہیں کی گئی۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی مکمل تائید کرتے ہیں۔

سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ قرارداد پرقائد حزب اختلاف اور قائد ایوان میں اتفاق نہیں تو پیش کرنے کی اجازت نہ دی جائے، اگر سویلین کورٹس کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرنا تو پھر انہیں بند کر دیں، اس قرارداد کی حمایت اکثریت نے نہیں کی اس لئے اس کو واپس لیا جائے۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین میں دو آرٹیکل اہم ہیں جن پر پورا آئین انحصار کرتا ہے، ایک ارٹیکل چار ہے اور اس کے ساتھ آرٹیکل دس اے بھی ہے، آرٹیکل دس اے فئیر ٹرائل کی بات کرتا ہے، ماضی میں سیاستدانوں کے خلاف مقدمے بنائے گئے، اگر آئین کو آج چھوڑیں گے پھر ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ یہ قانون آئین کے خلاف ہیں۔

سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ قرارداد منظوری کے وقت ایجنڈے پر نہیں تھی کورم بھی نہیں تھا اوربحث نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ایک سو نو قیدی بغیر ٹرائل کے جیل میں ہیں، پی ٹی آئی کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینا چاہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں مگر کچھ چیزوں پر غور کرنا چاہیے، اس روزکورم کی نشاندہی نہیں ہوئی اور قرارداد پاس کرلی گئی، اس سے پہلے بھی عجلت میں بل پاس کئے جاچکے ہیں، نیب سے متعلق بل بھی اسی طرح جلد بازی میں پاس کیا گیا، وہ بل کسی کے فائدے کا تھا اور اس سے کسی کا مفاد وابستہ تھا۔

سینیٹر شفیق ترین نے اجلاس میں کہا کہ پانچ سے 15 سال کے بچوں نے بلوچستان میں کفن باندھ کر دھرنا دیا ہوا ہے، بارڈر کا علاقہ ہے کہیں معاملات گھمبیر نہ ہوجائیںجس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میں وزیر داخلہ سے چیمبر میں بلا کر بات کرتا ہوں۔سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ صدیوں سے لوگ بارڈ کے دونوں جانب رہ رہے ہیں، کراچی کی عوام جب حب سے آتے ہیں تو رل جاتے ہیں وڑ جاتے ہیں، بلوچستان سے جو لوگ آتے ہیں سندھ پولیس ایک ایک کو اتار کر پیسے گنتے ہیں، بلیک میل کیا جاتا ہے کہ پیسے دو نہیں تو افغانی شو کریں گے، رینجرز اور کوسٹ گارڈ بھی مسائل بناتی ہے، بلوچستان سے سندھ آنا دوسرے ملک آنا ہے، روزانہ تذلیل کی جاتی ہے۔

سینیٹر دنیش کمار نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کوسٹ گارڈ اور سندھ پولیس کو قائمہ کمیٹی میں بلایا جائے اور ان سے پوچھا جائے۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ جنہوں نے 9 مئی کا واقعہ کیا انہوں نے غلط کیا، ان کو دہشت گرد نہیں بلکہ بھٹکے ہوئے کہہ سکتے ہیں، سول کورٹ میں معاملہ ضرور لے کر جائیں۔انہوں نے کہا کہ بات قرارداد کے پاس کئے جانے کے طریقے سے متعلق ہے، جو طریقہ اختیارکیا وہ پارلیمنٹ کے لئے درست نہیں ہے، ہم قیامت میں اللہ کو کیا جواب دیں گے، ہمارے اعضا ہمارے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ہمایوں مہمند نے کہا کہ مشتاق احمد جو قرارداد لارہے ہیں اس پر غور کریں، جو قرارداد منظور کی گئی مستقبل میں ایسی کوئی قرارداد پیش نہ کی جائے۔اجلاس میں متعدد تحاریک بھی پیش کیں گئی ۔

سینیٹر بہرہ مند تنگی نے گورنس اور آپریشنز ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیا جسے چیئرمین سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری اور سینیٹر فوزیہ ارشد نے الگ الگ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2023 ایوان میں پیش کیے، یہ بل بھی چیئرمین سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیئے،اسی طرح سینیٹر زرقا تیمور سہروردی نے معلومات تک رسائی کا حق ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا، اسے بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔سینیٹر ثنا جمالی کی جانب سے پیش کی گئی معیاری تعلیم تک ہر بچے کی رسائی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔قرارداد میں کہا گیا کہ عالمی یوم خواندگی، صنف، سماجی و اقتصادی حیثیت سے بالاتر ہوکر معیاری تعلیم تک رسائی پر بچے کا بنیادی حق ہے، قرارداد میں حکومت پاکستان سے تعلیم کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا، قرارداد میں غیر رسمی تعلیمی نظام ہو تقویت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ قرارداد کے متن میں فنی اور جدید تعلیم و تربیت کے فروغ کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں